Pay in installments of $50.00 with
,
and
Shipping Estimate
USA
- USA
- CAN
- USA
- CAN
Ships within 48 hours · Estimated delivery Sep 21 - Sep 26
For Your Every Summer RSVP, with Code: SUMMER15
Description
سوچ زار | Soch Zar2019 (Leisure) .
سوچ زار‘ مریم مجید ڈار کا پہلا افسانوی مجموعہ ہے۔ اِن سے ابتدائی تعارف پچھلے سال ایک آن لائن ویب سائٹ پر ان کا افسانہ ”حرامی“ پڑھ کر ہوا تھا۔ اس کہانی کی فضا میں ایک گھٹن تھی۔ جوں جوں کہانی اختتام کی طرف بڑھتی ہے قاری پر طاری وحشت میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ یہ کہانی کچھ اس انداز میں اختتام کی طرف بڑھتی ہے جو اس کی فضا کو سمجھنے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔
”آوارہ کتا جو بہت دیر سے کچرے میں کھانا تلاش کر رہا تھا۔ خون کی بو پا کر تھوتھنی ہوا میں اٹھاتا، سونگھتا ہوا دھجی تک آن پہنچا۔ بھوک سے بے تاب کتے نے جلد ہی ناخنوں اور پنجوں کی مدد سے نرم گوشت کے اس حرامی ٹکڑے کو چیڑ پھاڑ دیا“۔ اس کے بعد ایک دو مزید افسانے پڑھے تو احساس ہوا کہ افسانہ نگار اپنی کہانی کہنے اور اپنے اسلوب کے ذریعے ایک منفرد فضا قائم کرنے کی مہارت رکھتی ہیں۔ ہاں لیکن ان کی یہ فضا یک رخی اور مخصوص ہے، جس میں تلخی ہی تلخی ہے۔ سوچ زار 2019 میں شائع ہونے والے افسانوی مجموعوں میں ایک بہترین اضافہ ہے۔ دو سو اٹھاسی صفحات پر مشتمل اس کتاب میں مجموعی طور پر ستائیس افسانے موجود ہیں اور اسے ”فکشن ہاؤس“ نے شائع کیا ہے۔
سوچ زار کا پہلا افسانہ مقدمہ ابلیس و آدم و حوا کے نام سے ہے۔ بظاہر یہ افسانہ بارگاہ ربی میں ازل کے سب سے بڑے، سنجیدہ اور ناقابل یقین واقعے کے مقدمے کی روداد ہے۔ یہ ایک ایسے ظلم کی داستان ہے جو بظاہر اس سے پہلے کسی مخلوق نے اپنی جان پر نہیں کیا تھا۔ لیکن جس طرح یہ واقعہ مٹی سے بنی مخلوق کے ہمہ جہت رنگوں کی بنیاد بنا اسی طرح یہ افسانہ اس افسانوی مجموعے میں آنے والے تمام واقعات و حوادث کی پیشگی اطلاع دیتا ہے۔ یہ افسانہ آدم و حوا اور ابلیس کی اس تکون کی داستان ہے جو اس دنیا میں ہونے والے حادثات کو مکمل کرتی ہے۔ خلیفہ ربی اور اس کی پسلی سے پیدا کی گئی حوا جب تک جنت میں رہے وہ ہر جگہ ایک ساتھ تھے۔ لیکن بارگاہ رب میں پیش کیے گئے اس مقدمے کے دوران آدم اور حوا کو ایک دوسرے سے جدا کر دیا گیا۔ ان کی یکتائی اب دوئی میں بدل گئی تھی۔ اب انہیں ایک فریق نہیں بلکہ الگ الگ فریق کے طور پر اپنا موقف بارگاہ رب میں پیش کرنے کا حکم ملا۔ جس طرح بارگاہ رب میں ہوئے اس مقدمے کے دوران حوا نے اپنے تجسس کے ہاتھوں عزازیل کے فریب میں آنے کا اعتراف کیا اور جس طرح عزازیل نے آدم کے ہاتھوں ہوئی تذلیل کا بدلہ حوا کے تجسس کو جلا دے کر لیا تھا۔ اسی طرح بنت حوا کے ساتھ روا رکھے جانے والا فریب اور تذلیل کو جابجا ان افسانوں میں دیکھا جا سکتا ہے۔
ان افسانوں کے کردار ابن آدم کی ازلی معصومیت اور بنت آدم کی متجسسانہ فطرت کے ساتھ ساتھ شیطانی وسوسوں کا شکار ہوتے نظر آتے ہیں۔ان کرداروں کے رویے، کارنامے، خیالات اور ان خیالات کو عملی جامہ پہنانے کے لیے اپنائے گئے ہتھکنڈے کسی فرد واحد کا عمل نہیں بلکہ پورے معاشرتی رویوں کی تصویر کشی کرتے ہیں۔ جس طرح ویلز نے اپنی شہرہ آفاق نظم ”لیژر“ (Leisure) میں دنیا کے حسین رنگوں بارے کہا ہے کہ ”وی ہیو نو ٹائم ٹو سٹینڈ اینڈ سٹیر“۔ اور جس طرح وہ اس نظم میں دنیا کے خوبصورت رنگوں اور خوشگوار احساسات سے روشناس کرواتا ہے، اسی طرح فاضل افسانہ نگارنے اپنی کہانیوں اور کرداروں کے ذریعے ان پسے ہوئے، افلاس زدہ، کچلے گئے لوگوں کے دکھوں سے ہمیں متعارف کروایا ہے جو ہمارے آس پاس موجود تو ہیں لیکن رک کر انکے بارے جاننے کی ہمیں زندگی کی ہمہ ہمی میں فرصت نہیں ملتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ جب فاضل افسانہ نگار ہمیں خط غربت سے نیچے رہنے والے ان لوگوں کی زندگیوں کے اندر جھانکنے کا موقع دیتی ہیں تو دراصل وہ ہمارے ضمیر کو جھنجھوڑ رہی ہوتی ہیں کہ دیکھو تمہارے قہقہوں، پر آسائش زندگیوں اور ظلم و ستم کا شکار ہوئے غریب پر کیا بیتتی ہے۔ یہ کردار اینٹوں کے بھٹے پر مشقت کرنے والے بکھی اور شوکے، گیلے بستر پر لیٹ کر اپنے بچے کو سوکھے حصے پر ڈال کر اس کی خوراک کے بارے سوچتی نسیم، ماں کی گندی گالیاں کھاتی منی اور کسی ماہر کا شکار ہونے والی بے نام لڑکی کے روپ میں جا بجا بکھرے پڑے ہیں۔ ان افسانوں کا ایک وصف اس کا حسن تعمیر ہے۔ افسانہ نگار نے زبان و بیان کے بہترین استعمال سے نہ صرف زندگی کے رنگوں سے کہانی کو پینٹ کیا ہے بلکہ غربت، افلاس، ہوس اور پیچھے چھوٹ جانے والے لوگوں سے پیدا ہونے والی محرومیوں اور تلخیوں سے بھرپور زندگیوں کی یوں منظر کشی کی ہے کہ قاری کہانی میں کھو جا تا ہے۔
”بکھی۔ کچھ تلخ سچ“ تیسرا افسانہ ہے جو کچی بستی میں رہنے والی بکھی کی کہانی ہے۔ بکھی دن کو بھٹے پر کام کرتی ہے تو رات کو اس کی کھولی میں پھیلی تعفن زدہ فضا شوکے جیسے کچی بستی کے دیگر مزدوروں کے جسمانی تناؤ کو پرسکون کرنے کا مرکز بن جاتی ہے۔ یہ افسانہ بھٹہ مزدوروں کے تلخ شب و روز کو اجاگر کرتا ہے۔ افسانہ نگار نے بکھی اور اس کی جھونپڑی کو جنسی آلہ کار بنا کر پیش کیا ہے۔ افسانے میں بکھی کا تعارف ان لفظوں میں کروایا گیا ہے ” بکھی بھی اسی بھٹہ بستی کا حصہ تھی۔۔۔ کالی سیاہ۔۔۔ مانو کالی کا روپ۔۔۔۔بڑی بڑی کوری آنکھیں، اینٹوں کی تگاری مسلسل سر پہ اٹھانے سے اندر کو دھنستا ماتھا اور مکرانی کنڈل والے چڑے کے گھونسلے سے بال۔۔۔۔ مگر اس کے کالے سیاہ جسم سے جنسی وحشت ایسے بہتی تھی جیسے صحرا میں چشمہ ابلتا ہے۔۔ ناک میں تانبے کا بڑا سا بلاق پہنے، لنگی میں کسا بدن اور جب وہ اینٹیں ڈھوتی تھی تو اس کے کولہوں کی اٹھتی گرتی حرکت کو کم ہی سہار پاتے۔۔۔ آدھوں کے منہ سے رال بہ رہی ہوتی اور کئی اپنی لنگی بھینچ کے رہ جاتے“۔
ایسی تگڑی کاٹھی والی عورت ہی بھٹہ مزدوروں کا بار سہنے کی ہمت رکھتی تھی لیکن شراب کے نشے میں دھت چار پانچ امیرزادوں کا بار سہارنا اس کے لیے ممکن نہ رہا۔ کچی کھولی سے ایک این جی او والے صاحب کے بنگلے تک کا سفر کرنے والی بکھی کی زندگی میں کوئی بدلاؤ نہیں آتا۔ ان بھٹہ بستیوں میں پھیلی این جی او مافیا اور روزانہ کی روٹی کمانے والے بھٹہ مزدوروں کی سوچ اور زندگیوں میں تفاوت افسانے کو مزید گہرا بناتی ہے۔ پورے افسانے میں بکھی تو ہمارے سامنے کم عرصے کے لیے آتی ہے لیکن بکھی اور اس جیسے تمام بھٹہ مزدوروں کی زندگیوں میں ہر سو پھیلی غربت اور بے بسی سے پیدا ہونے والی تلخیوں کو ہم پورے افسانے میں دیکھ سکتے ہیں-
افسانہ ”حرامی“ محبت کا شکار بنی ہزاروں لڑکیوں کی داستان ہے لیکن افسانہ نگار نے جس طرح اس افسانے کا اختتام کیا ہے وہ نہ صرف منفرد ہے بلکہ قاری کو اختتام پر پہنچتے جھنجھوڑ دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ایک محفوظ سمجھے جانے والے ہوٹل میں ساتھ والے کیبن سے آتی سسکاریوں کی آواز کے بہروپ میں عزازیل کا پھیلایا جال، محبت کی شکار بنت حوا کے تجسس کو جلا بخشتا ہے۔ اس تجسس کی اصلیت جاننے کے لیے بنت حوا ایک ماہر شکاری کا شکار تو ہو جاتی ہے لیکن ممنوع پھل کو چکھنے کی جس سزا سے وہ گزرتی ہے، وہ سزا صدیوں پہلے دی گئی اس سزا کی مانند ہے جو حوا کو دی جاتی ہے۔ جس طرح حوا کو جنت سے محروم کر دیا گیا تھا ویسے ہی بنت حوا کے قدموں تلے بنی جنت سے اس کو محروم کرنے کی داستان ایک سوگوار فضا بنا دیتی ہے۔ اس کہانی کا اختتام ایک بنت حوا کے لیے ایک تنبیہ لیے ہوئے ہے۔ ” عین اس لمحے جب کتا اس کے نومولود کا نرخرہ چبا رہا تھا، ماہر حرف ساز اپنے آرام دہ کمرے کی نیم تاریکی میں فون کان سے لگائے اپنی نئی محبوبہ کو سسکیوں والے ریستوران میں ملنے کے لیے رضا مند کر رہا تھا“۔ گو آدم نے سزا ملنے کے بعد بھی حوا کا ساتھ نہیں چھوڑا تھا لیکن آج کی دنیا میں اجتماعی غلطیوں کی سزائیں اور تکلیفیں زیادہ تر بنت حوا کو بھگتنی ہوتی ہیں جبکہ ابن آدم ماہر حرف ساز کی طرح لذت حاصل کرنے کے بعد خاموشی سے اپنا راستہ بدل کر کسی اور کی زندگی تباہ کرنے چل پڑتا ہے۔
آٹھویں افسانے کا نام ”پرایا ہاتھ“ ہے۔ افسانہ نگار نے اس افسانے میں ہیت اور تکنیک کے حوالے سے نیا تجربہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس افسانے کا مرکزی کردار ایک مردانہ ہاتھ کو بنایا گیا ہے۔ وہ ہاتھ جو موقع کی تلاش میں ہوتا ہے کہ کس طرح ایک عورت کو چھو سکے۔ وہ ہاتھ جب کسی سیکریٹری کے بدن کو چھوتے ہوئے نئے راز تلاش کر رہا ہوتا ہے تو اس میں قدرے بے باکی دیکھنے کو ملتی ہے، وہ ہاتھ جب ساتھ کام کرنے والی جونیر کی کمر کے گرد گھومنے لگتا ہے تو اس کی پیش قدمی جھجھک اور ڈر سے لبریز ہوتی ہے اور یہ ہاتھ اس قدر بے باک ہوتا ہے کہ اپنی مالکن کا بھی لحاظ نہیں کرتا۔ ہاتھ کا یہ تمثیلی استعمال افسانے کو دلچسپ بناتا ہے۔ اس افسانے میں کیا گیا تجربہ مزید گہرا اور وسیع ہو سکتا تھا لیکن یوں محسوس ہوا جیسے افسانہ نگار افسانے کے مرکزی کردار کی طرح اسے ختم کرنے کی جلدی میں تھیں۔
بھوک اس دنیا پر بسنے والی جانداروں کا بہت بڑا مسئلہ ہے۔ پاپی پیٹ کی بھوک کو مٹانے کی خواہش انسان کو کس طرح بے بس، وحشی، بے حس اور مجبور کر دیتی ہے وہ بعض افسانوں میں بہت نمایاں ہو کر سامنے آتا ہے۔ افسانہ” پیٹ“ ایسی ہی غریب اور بے بس ماں کی داستان ہے۔ ماں جو اپنی اولاد کو گرمی اور حبس سے تڑپتی اور ٹھٹھرتی سردیوں میں مرتے نہیں دیکھ سکتی۔ اپنے بچوں کے لیے سڑک پار ایک کچی جھونپڑی ڈالنے کے لیے جس طرح کی محنت وہ کرتی ہے وہ ایک ماں کے ہی شایان شان ہے۔ بھوک اور غربت کی وجہ سے پیدا ہوئی بے بسی افسانہ ”لفافے کی موت“ میں پہنچ کر سفاکیت میں بدل جاتی ہے۔ یہی غربت اور بےبسی افسانہ ” اپنا اپنا جہنم“ میں آ کر اس بے حسی میں بدل جاتی ہے۔ سلطان کے ساتھ بیتا حادثہ ہمارے اجتماعی شعور پر ایک زبردست چوٹ ہے۔ سلطان جیسا محنت کر کے عزت سے جینے والا شخص بس اپنی غربت کی وجہ سے لوگوں کی ہوس کا نشانہ بن گیا۔ افسانہ ”حرامی“ انسانوں کے ساتھ ساتھ حیوانوں کی بھوک کے اندھے پن کو ظاہر کرتا ہے۔
اس افسانوی مجموعے میں جہاں خط غربت سے نیچے زندگی بسر کرنے والے ہر پیشے سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی زندگیوں کی پریشانیاں، غم، بھوک، درد اور تلخیاں بیان کی گئی ہیں، وہاں اس طبقے کی ہمت اور سفاکیت کی ظالمانہ حد کو بہت مہارت سے دکھایا گیا ہے۔ اپنے حرامی نومولود نواسے کے ناک پر ہاتھ رکھ کر قتل کرتی ہوئی نانی اور اپنے معذور بھائی کے ہونٹوں پر ہاتھ رکھ کر شہہ رگ پر زنگ آلود قینچی پھیرتا بڑا بھائی نہ صرف سفاکیت کی انتہا پر ہوتا ہے بلکہ اس کی بے بسی بھی دیکھی جا سکتی ہے۔ یہ افسانے اس معاشرے کی فرسودہ اقدار، ظالمانہ روایات اور دوسروں کی زندگیوں کو اپنی لذت کی خاطر تباہ کرنے والوں کے خلاف ایک زبردست مقدمہ پیش کرتے ہیں۔ ان افسانوں میں عورت کے درد کو اس قدر گہرائی سے دکھایا گیا ہے کہ زیادہ تر افسانے نسائی نقطہ نظر سے لکھے ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ افسانے بھوک، غربت اور بے بسی کے رنگوں میں رنگ کر ایک بوجھل، تعفن زدہ اور سوگوار فضا پیدا کر دیتے ہیں۔ اسی لیے وہ قاری جو خوبصورت انجام اور خوشگوار واقعات پر مشتمل کہانیاں پڑھنے کے متمنی ہیں، ان کے لیے پیش لفظ میں انتباہ ہے کہ وہ ان افسانوں سے دور رہیں کیونکہ انہیں مایوسی ہوگ.
Shipping Notes
- Free Standard Shipping on $100+ Orders to the USA.
- Except Preorder products are shipped in 48 hours.
- Delivery to the USA:
- Standard Shipping : 3-10 business days
- If time is of the essence, please consider selecting expedited delivery for faster service.
Exchange/Return Notes
- We offer a 30-day return/exchange service after receiving.
- Final sale items are not eligible for returns or exchanges.
- To process your return/exchange, please contact us at [email protected]
- Please click here for more details>>> Return & Exchange Policy
4.9 ★★★★★
Based on 15 reviews
Sort
Product Reviews
★★★★★ 3
Not for chewers
Color: Blue, Color: Blue
Ok, first off, my dog absolutely loved this toy. Still loves it. However: it only took him two days to utterly destroy the part that made it interactive. The rope fastened to the small interior plastic part that is moved by the rechargeable motor was too soft for him and he chewed it off right at the root, where it attached. This makes the toy immobile. It still makes noise and vibrates, but it no longer leaps and bounces. So now he carries it around while it vibrates inside his jaws and I watch his ears jiggle and make sure he doesn’t eat the whole thing. Please note: this is a medium sized Corgi, not a huge dog like a Rottweiler. There is no way to add a new rope to that interior plastic piece: they are made as an inseparable unit. You have to buy the full replacement set which includes a new cover.
I would recommend this toy for someone whose dog is NOT a chewer. For someone whose dog loves to chase, and is excited by noise. If those pesky squirrels chattering outside really get to him, this toy will be his new favorite. But if your dog likes to chew and has more than two teeth in his mouth, this toy is not a great choice and you should spend your money on something that will last a bit longer. It’s not a good value for the money. I bought this original toy and a replacement cover+rope set, and I’m not going to give him the replacement cover for a long, long time. I can’t afford to replace these every few days! Thankfully he still loves the toy despite the fact that it doesn’t run away from him, and hasn’t tried to eat the foam covering, so it’s just the softness of the rope I am disappointed in. But I’m not going to buy this again and can’t recommend it highly, based on my experience, despite my dog loving it and the joy I get watching his ears shake as he trots around the house holding onto this expensive mouth vibrator.
WAS THIS REVIEW HELPFUL?YesReportShare
Reviewed in the United States on May 14, 2026
★★★★★ 5
Excellent product
Color: Orange
Excellent product gave as gift and was enjoyed by the labrador.
The tail makes all the difference.
Would recommend.
WAS THIS REVIEW HELPFUL?YesReportShare
Reviewed in the United States on May 20, 2026
★★★★★ 2
Not worth it - (2nd day of having product)
Color: Orange
Fun toy out of the box - Frenchie dog.
Charge does not last long. Even with recharging, the motor seems weaker. It asks to keep the charging port dry, but it is not slobber-proof, so when opened, the entire inside is wet - I have to blow-dry the charging port in order to be able to recharge it
Day 2 - movement is so weak, but it shows full charge. Barking sound is no longer audible. If you have a chewer... not great as it is easily broken apart. Not really worth it. At least it's cheaper on Amazon than their website.
WAS THIS REVIEW HELPFUL?YesReportShare
Reviewed in the United States on January 16, 2026
★★★★★ 4
Interactive Dog Toy
Color: Orange
My 100 lb shephard/golden mix likes this toy but she tends to get agitated with it. I have to keep an eye on her because she destroys toys in record time. The only complaint I really have is once she gets interested and plays for a long time it needs to be charged and she doesn't want me to take it to be charged. Wish the charge lasted a little longer or there were two of the inner parts so one could charge while she is playing with the second one. The plastic ball could be made of rubber so the teeth marks don't show up.
WAS THIS REVIEW HELPFUL?YesReportShare
Reviewed in the United States on March 27, 2026
★★★★★ 5
Bouncy, not hard, and good value.
Style: Fetch Balls (Pack of 10), Size: 2.5 inch
Great balls for the ball launcher and not rockhard like some of the solid rubber balls. These have great bounce, and because of the two holes, they make a fun whistling noise as they fly through the air. My dogs love them and they are a good value.
By the way, if you throw them too hard, they will go through chain-link and no climb fence because they squish a bit!
WAS THIS REVIEW HELPFUL?YesReportShare
Reviewed in the United States on February 16, 2026
recommand products
Tybee Island USA Newspapers Vector Illustration | Editable SVG, AI, EPS, PDF & PNG | City Vectors
11.00
Udall USA Newspapers Vector Illustration | Editable SVG, AI, EPS, PDF & PNG | City Vectors
11.00
Urbandale USA Newspapers Vector Illustration | Editable SVG, AI, EPS, PDF & PNG | City Vectors
11.00
Upper Falls USA Newspapers Vector Illustration | Editable SVG, AI, EPS, PDF & PNG | City Vectors
11.00
University Place USA Newspapers Vector Illustration | Editable SVG, AI, EPS, PDF & PNG | City Vectors
11.00